بہرِ دیدار مشتاق ہے ہر نظر
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
بہرِ دیدار مشتاق ہے ہر نظر
دونوں عالم کے سرکار آ جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
چاندنی رات ہے اور پچھلا پھر
دونوں عالم کے سرکار آ جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
سامنے جلواگر پیکر نور ہو
منکروں کا بھی سرکار شک دور ہو
کرکے تبدیل ایک دن لباس بشر
دونوں عالم کے سرکار آ جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
شام امید کا اب سویرا ہوا
سو ے طیبہ نگاہوں کا ڈرا ہوا
بچھ گیی راہ میں فرش قلب و جگر
دونوں عالم کے سرکار آ جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
دل کا ٹوٹا ہوا آبگینہ لئے
شولا ے عشق کا طورِ سینہ لئے
کتنے گھایل کھڑے ہیں سرِ رہ گزر
دونوں عالم کے سرکار آ جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
سدرۃ الْمُنْتَہیٰ ، عرش ، بابِ ارم
ہر جگہ پڑھ چکے ہیں نشانِ قدم
اب تو ایک بار اپنے غلاموں کے گھر
دونوں عالم کے سرکار آ جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
آخری وقت ہے ایک بیمار کا
دل مچل نے لگا شوقِ دیدار کا
بج نہ جائے کہیں یہ چراگِ سحر
دونوں عالم کے سرکار آ جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
آقا آ جائیے ، آقا آ
جائیے
شامِ غربت ہے اور شہر خاموش ہے
ایک ارشد اکیلا کفن پوش ہے
خوف کی ہے گڑی ، وقت ہے پرخطر
دونوں عالم کے سرکار آ جائیے
آقا آ جائیے ،
آقا آ جائیے
آقا آ جائیے ،
آقا آ جائیے
Good
ReplyDeleteHasan
Delete